All ok 👌

۔All ok 😕
معاشرے کی بگاڑ کا سبب کون ؟
ARY News کی ایک اور خبر نظر سے گزری کہ فیصل آباد میں بیٹیوں کے سامنے عورت کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ، 
جبکہ موٹر وے والے ثانحہ کے اگلے دو روز ایسے ہی کیس رپورٹ ہوتے رہے ،
 آئے دن مذید اضافہ ہوتا جا رہا ہے یا یوں کہیں تو غلط نا ہو گا کہ یہ فگر پہلے سے موجود تھے لیکن میڈیا پہ رپورٹ کم ہوتے ہیں اور زیادہ تر لوگ FIR تک درج نہیں کرواتے ، بچی ہوئی عزت کئ حفاظت کیلئے 
لیکن یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر اس معاشرے کے بگاڑ کا سبب کون ہے ، 
کیا صرف مرد درندہ ہے ،
مرد  کے مضبوط اعصاب اور اس میں جنسی درندگی ڈال دی گئی ؟ 
کیا خواتین کا لباس اس سب مین اہم ہے ؟
یا ہمارا قانون کمزور ہے جو مجرم کو کہیں سزا سے تحفظ فراہم کرتا ہے تو کہیں تاخیر کر دیتا ہے سزا دینے میں ، 
سب عناصر اپنی اپنی جگہ اثر انداز ضرور ہوتے ہیں ،  
یہاں نا تو میں مرد کو معصوم گردانت رہا ہوں ، نا ہی عورت کی بے حیائی اور بے لباسی کی حمایت کر رہا ہوں  
نا ہی اس گلے سڑے قانون کی حمایت کر رہا ہوں 
لیکن کچھ اس سب سے بڑھ کے ہے جو کہ اصل وجہ سے اس معاشرے کے بگاڑ کی 
وہ ہے 
بچون کئ تربیت 
ہم اس معاشرے کو کیسا مرد کیسی عورت فراہم کر رہے ہین کبھی اس بات پہ ہم نے غور نہین کیا ، 
والدین بچوں کو کھلا پلا کے سکول بھیج کے سمجھتے ہیں کہ ذمہ داری مکمل ہو گئی جبکہ ایک ہی گھر مین رہتے ہوئے نا تو ماں نا ہی باپ کبھی اپنے بچوں کو پاس بٹھا کے دس منٹ بات کرتے
 کہ آپ کی زندگی میں کیا مصروفیات ہیں ، 
پڑھائی کیسی چل رہی ہے کوئی مسلہ پریشانی تو نہیں؟ ، 
کچھ پوچھنا ہو اپ کو ؟ 
کچھ بتانا ہو، کچھ شیئر کرنا ہو تو شیئر کیجئے، 
 اس سب پہ کوئی والدین بات نہین کرتے مردوں کو کام کاج اور واپس آ کے سونے اور نیوز چینل ،میچ دیکھنے سے فرصت نہیں اور ماوں کو چولہے چوکھے ، ساس بہو نند کے جھگڑوں ، مارننگ شو ، اور ڈرامہ دیکھنے سے ہی فرصت نہیں 
اس بیج جو وقت اپکے بچون کی تربیت کا ہے وہ کہاں جاتا ہے ، 
ہمارے بچے اپنی تربیت مکمل طور پہ اس معاشرے سے حاصل کرتے ہیں ، اچھا برا سب گھر کے باہر سے سیکھتے ہین، گھر تو بس کھانے پینے سونے اور جیب خرچ اکٹھا کرنے کی جگہ ہو جیسے ، 
والدین خاص کر ایک ماں پہ سب سے بڑی ذمہ داری اپنے بچوں کی اچھی تربیت کی ہوتی ہے جس کا آخرت میں سوال بھی کیا جائے گا کہ اولاد کو کس راستے پہ ڈالا ؟ 
اولاد ایک قیمتی اثاثہ ہے اور اسکا سوال پوچھا جائے گا اپنے اثاثے کو کس راستے ڈالا ؟ 

اگر ماوں کو اپنی فضولیات سے فرصت ملے تو کبھی اپنے آٹھ سالہ بیٹے کو اتنا ہی سمجھا دیں گے کہ 
بیٹا عورت کی ہمیشہ عزت کرتے ہیں ، اس سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتے چیختے چلاتے نہیں ہیں عورت پہ  ، اس کا دل نہین دکھاتے ،  نا ہی جسمانی نا ہی جذباتی اور نا ہی ذہنی تکلیف پہنچاتے ہیں عورت کو ، 
عورت اکیلی ہو تو اپ پہ اسکی حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے 
صرف یہ تیس سیکنڈ ، تیس سیکنڈ کی چار سطریں ہمارے معاشرے کو بدل سکتی ہیں ،  
آپ جیسا مرد اس معاشرے کو فراہم کر رہے ہیں، ویسے مرد ہی اس معاشرے میں پائے جائین گے ، 
تربیت کرنے کی ذحمت کرنا تو دور یمارے معاشرے کی مائیں اپنے بچون کے ہر برے سے برے کام ، بے ادبی ، چوری، بدتمیزی ہر شہ کو ڈفنڈ کرتی ہیں ، وہ بھی اپنی اولاد کے سامنے ، یہیں سے اس معاشرے کے بگاڑ کی ابتدا ہوتی یے ، جب آپ اپنے بچوں کی خوداری انکی عزت نفس انکے ضمیر کا قتل کر دیتی ہین صرف اپنی تربیت کی کمزوری کو چھپانے کی کیلئے، 
 جب آپ اپنی اگلی نسل کو بجائے اچھے برے کی تفریق بتانے کے، انکے ہر برے کام کو ڈیفنڈ کر کے All ok کا ٹھپا لگا دیتی ہیں ،  ان بچون نے بڑا ہو کہ ہر برائی کو All ok ہی سمجھنا یے پھر ، 
یہ ہی بچے پھر اسی ماں کے پرس سے پچاس سو نکال کے All ok سمجھتے ہیں ،
 بڑے ہو کے کسی کو دھوکہ دیتے ہیں کسی سے فراڈ کرتے ہیں تو All ok سمجھتے ہیں ،
 اکیلی عورت ،بچے دیکھ کے ان سے زیادتی کرتے ہیں تو All ok سمجھتے ہیں ،  
حرام خوری کرتے ہیں تو All ok سمجھتے ہیں ،
 سرکاری عہدوں پہ بیٹھتے ہین تو غریب کا حق مار کے بھی All ok سمجھتے ہین۔

کیونکہ سالوں پہلے کسی ماں نے انکے ضمیر کو مار کے  All ok کا ناسور انکے ذہنوں مین پیوست کر دیا تھا ، 
صرف اپنی سستی، کاہلی ، نالائقی اور اپنی بری تربیت کو چھپانے کیلئے All ok کا زہر اپنی اولاد کے اندر ڈال دیا تھا 

تو آج ہی تمام والدین اردگرد کے لوگوں کو جج کرنے کے بجائے اپنے بچوں کو جج کریں ،
 انھیں پاس بٹھائیں، اپنے بچوں سے دوستی کریں انھین اچھے برے کی تمیز سیکھائیں انھیں بتائیں کہ اپ مرد ہیں اپ کو معاشرے میں کیا کردار ادا کرنا ہے ، ایک اچھا معاشرہ ایک اچھے مرد سے کیا توقع رکھتا ہے،
آپ عورت ہیں آپ نے کل کو اپنی اولاد کو کیسے تربیت دینی ہے، اپنی بیٹیوں کو ٹرین کریں، 
اپنی بیٹیوں کو یہ بھی بتائیں کہ اچھا معاشرہ  اچھی عورت مانگتا ہے ،
 اچھے معاشرے میں اچھی عورت کا کردار اچھے مرد سے زیادہ کئی زیادہ اہم ہوتا ہے ،
اپ اپنی بیٹی کو ٹرین کریں کیونکہ اس نے کل کو اپنے کئی بچوں کے برے کاموں کو یا All ok کرنا ہو گا یا پھر انھیں اچھا مرد ، اچھی عورت بنانا ہو گا 
#زرا_سوچیئے
ازقلم 
#سردار_دانیال

Comments